Sunday, 3 March 2019

پیہم سجود پائے صنم پر دم وداع

Posted by Wasimdarbar
پیہم سجود پائے صنم پر دم وداع
مومنؔ خدا کو بھول گئے اضطراب میں

Read More
This is a Sticky post

This will appear right below the first post. You can edit this right from the template and change it to your own post. This will appear right below the first post. You can edit this right from the template and change it to your own post.This will appear right below the first post. You can edit this right from the template and change it to your own post.

Saturday, 2 March 2019

وصل کي شب شام سے ميں سو گيا

Posted by Wasimdarbar

وصل کي شب شام سے ميں سو گيا
جاگنا ہجراں کا بلا ہو گيا

ساتھ نہ چلنے کا بہانہ تو ديکھ
آہ کے مري نعش پہ وہ رو گيا

صبر نہيں شام فراق آ بھي چکو
جس سے کہ بے زار تھے تم سو گيا

ہائے صنم ہائے صنم لب پہ کيوں
خير ہے مومن تمہيں کيا ہو گيا

Read More

وہ جو ہم ميں تم قرار تھا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو

Posted by Wasimdarbar

وہ جو ہم ميں تم قرار تھا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو
وہي يعني وعدہ نباہ کا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو

وہ جو لطف مجھ پہ تھے پيش تر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے ياد ذرا ذرا تہمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو

وہ نئے گلے وہ شکايتيں وہ مزے مرے کي حکايتيں
وہ ہر ايک بات پہ روٹھنا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو

کبھي بيٹھے سب ميں جو روبو تو اشارتوں ہي گفتگو
وہ بيان شوق کا بر ملا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو

ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتائے کو دم بہ دم
گلہ ملامت اقربا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو

کوئي ايسي بات اگر ہوئي کہ تمہارے جي کو بري لگي
تو بياں سے پہلے ہي بھولنا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو

کبھي ہم ميں تم ميں بھي چاہ تھي کبھي ہم ميں تم ميں بھي راہ تھي
کبھي ہم بھي تم سے تھے آشنا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو

سنو ذکر ہے کئي سال کا کہ کيا اک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذکر کيا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو

کہا ميں بات وہ کوٹھے کي مرے دے صاف اتر گئي
تو کہا کہ جانے مري بلا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہوs

وہ بگڑ وصل کي رات کا وہ نہ ماننا کسي بات کا
وہ نہيں نہيں کي ہر آن ادا تمہيں ياد ہو نہ ياد ہو

جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا
ميں وہي ہوں مومن مبتلا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو

Read More

آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا

Posted by Wasimdarbar


آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا
آنسو چو اس نے پونچھے شب اور ہاتھ پھل گیا

پھوڑا تھا دل نہ تھا یہ موے پر خلل گیا
جب ٹھیس سانس کی لگی دم ہی نکل گیا

کیا روؤں خیرہ چشمی بخت سیاہ کو
واں شغل سرمہ ہے ابھی یاں سیل ڈھل گیا

کی مجھ کو ہاتھ ملنے کی تعلیم ورنہ کیوں
غیروں کو آگے بزم میں وہ عطر مل گیا

اس کوچے کی ہوا تھی کہ میری ہی آہ تھی
کوئی تو دل کی آگ پہ پنکھا سا جھل گیا

جوں خفتگان خاک ہے اپنی فتادگی
آیا جو زلزلہ کبھی کروٹ بدل گیا

اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل
میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

کچھ جی گرا پڑے تھا پر اب تو نے ناز سے
مجھ کو گرا دیا تو مرا جی سنبھل گیا

مل جائے گر یہ خاک میں اس نے وہاں کی خاک
گل کی تھی کیوں کہ پاؤں وہ نازک پھسل گیا

بت خانے سے نہ کعبے کو تکلیف دے مجھے
مومنؔ بس اب معاف کہ یاں جی بہل گیا

Read More

اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا

Posted by Wasimdarbar


اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا
ناصح تو میری جان نہ لے دل گیا گیا

ضد سے وہ پھر رقیب کے گھر میں چلا گیا
اے رشک میری جان گئی تیرا کیا گیا

یہ ضعف ہے تو دم سے بھی کب تک چلا گیا
خود رفتگی کے صدمے سے مجھ کو غش آ گیا

کیا پوچھتا ہے تلخی الفت میں پند کو
ایسی تو لذتیں ہیں کہ تو جان کھا گیا

کچھ آنکھ بند ہوتے ہی آنکھیں سی کھل گئیں
جی اک بلائے جان تھا اچھا ہوا گیا

آنکھیں جو ڈھونڈتی تھیں نگہ ہائے التفات
گم ہونا دل کا وہ مری نظروں سے پا گیا

بوئے سمن سے شاد تھے اغیار بے تمیز
اس گل کو اعتبار نسیم و صبا گیا

آہ سحر ہماری فلک سے پھری نہ ہو
کیسی ہوا چلی یہ کہ جی سنسنا گیا

آتی نہیں بلائے شب غم نگاہ میں
کس مہروش کا جلوہ نظر میں سما گیا

اے جذب دل نہ تھم کہ نہ ٹھہرا وہ شعلہ رو
آیا تو گرم گرم ولیکن جلا گیا

مجھ خانماں خراب کا لکھا کہ جان کر
وہ نامہ غیر کا مرے گھر میں گرا گیا

مہندی ملے گا پانوں سے دشمن تو آن کر
کیوں میرے تفتہ سینے کو ٹھوکر لگا گیا

بوسہ صنم کی آنکھ کا لیتے ہی جان دی
مومنؔ کو یاد کیا حجر الاسود آ گیا

Read More

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

Posted by Wasimdarbar

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
بے وفا کہنے کی شکایت ہے
تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا
ذکر اغیار سے ہوا معلوم
حرف ناصح برا نہیں ہوتا
کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک

جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
اس نے کیا جانے کیا کیا لے کر
دل کسی کام کا نہیں ہوتا
امتحاں کیجئے مرا جب تک
شوق زور آزما نہیں ہوتا
ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہے

تجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا
آہ طول امل ہے روز فزوں
گرچہ اک مدعا نہیں ہوتا
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا



جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
حال دل یار کو لکھوں کیوں کر
ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا
رحم بر خصم جان غیر نہ ہو
سب کا دل ایک سا نہیں ہوتا
دامن اس کا جو ہے دراز تو ہو


دست عاشق رسا نہیں ہوتا
چارہ دل سوائے صبر نہیں
سو تمہارے سوا نہیں ہوتا
کیوں سنے عرض مضطر اے مومنؔ

صنم آخر خدا نہیں ہوتا





Read More

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

Posted by Wasimdarbar
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا

Read More