Sunday, 3 March 2019
This is a Sticky post
This will appear right below the first post. You can edit this right from the template and change it to your own post. This will appear right below the first post. You can edit this right from the template and change it to your own post.This will appear right below the first post. You can edit this right from the template and change it to your own post.
Saturday, 2 March 2019
وصل کي شب شام سے ميں سو گيا
Posted by Wasimdarbar in: وصل کي شب شام سے ميں سو گيا at 08:52
وصل
کي شب شام سے ميں سو گيا
جاگنا
ہجراں کا بلا ہو گيا
ساتھ
نہ چلنے کا بہانہ تو ديکھ
آہ
کے مري نعش پہ وہ رو گيا
صبر
نہيں شام فراق آ بھي چکو
جس
سے کہ بے زار تھے تم سو گيا
ہائے
صنم ہائے صنم لب پہ کيوں
خير
ہے مومن تمہيں کيا ہو گيا
وہ جو ہم ميں تم قرار تھا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو
Posted by Wasimdarbar in: وہ جو ہم ميں تم قرار تھا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو at 08:49
وہ
جو ہم ميں تم قرار تھا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو
وہي
يعني وعدہ نباہ کا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو
وہ
جو لطف مجھ پہ تھے پيش تر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے
سب ہے ياد ذرا ذرا تہمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو
وہ
نئے گلے وہ شکايتيں وہ مزے مرے کي حکايتيں
وہ
ہر ايک بات پہ روٹھنا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو
کبھي
بيٹھے سب ميں جو روبو تو اشارتوں ہي گفتگو
وہ
بيان شوق کا بر ملا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو
ہوئے
اتفاق سے گر بہم تو وفا جتائے کو دم بہ دم
گلہ
ملامت اقربا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو
کوئي
ايسي بات اگر ہوئي کہ تمہارے جي کو بري لگي
تو
بياں سے پہلے ہي بھولنا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو
کبھي
ہم ميں تم ميں بھي چاہ تھي کبھي ہم ميں تم ميں بھي راہ تھي
کبھي
ہم بھي تم سے تھے آشنا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو
سنو
ذکر ہے کئي سال کا کہ کيا اک آپ نے وعدہ تھا
سو
نباہنے کا تو ذکر کيا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو
کہا
ميں بات وہ کوٹھے کي مرے دے صاف اتر گئي
تو
کہا کہ جانے مري بلا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہوs
وہ
بگڑ وصل کي رات کا وہ نہ ماننا کسي بات کا
وہ
نہيں نہيں کي ہر آن ادا تمہيں ياد ہو نہ ياد ہو
جسے
آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا
ميں
وہي ہوں مومن مبتلا تمہيں ياد ہو کہ نہ ياد ہو
آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا
Posted by Wasimdarbar in: آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا at 08:46
آگ
اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا
آنسو
چو اس نے پونچھے شب اور ہاتھ پھل گیا
پھوڑا
تھا دل نہ تھا یہ موے پر خلل گیا
جب
ٹھیس سانس کی لگی دم ہی نکل گیا
کیا
روؤں خیرہ چشمی بخت سیاہ کو
واں
شغل سرمہ ہے ابھی یاں سیل ڈھل گیا
کی
مجھ کو ہاتھ ملنے کی تعلیم ورنہ کیوں
غیروں
کو آگے بزم میں وہ عطر مل گیا
اس
کوچے کی ہوا تھی کہ میری ہی آہ تھی
کوئی
تو دل کی آگ پہ پنکھا سا جھل گیا
جوں
خفتگان خاک ہے اپنی فتادگی
آیا
جو زلزلہ کبھی کروٹ بدل گیا
اس
نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل
میں
کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا
کچھ
جی گرا پڑے تھا پر اب تو نے ناز سے
مجھ
کو گرا دیا تو مرا جی سنبھل گیا
مل
جائے گر یہ خاک میں اس نے وہاں کی خاک
گل
کی تھی کیوں کہ پاؤں وہ نازک پھسل گیا
بت
خانے سے نہ کعبے کو تکلیف دے مجھے
مومنؔ
بس اب معاف کہ یاں جی بہل گیا
اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا
Posted by Wasimdarbar in: اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا at 08:45
اس
وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا
ناصح
تو میری جان نہ لے دل گیا گیا
ضد
سے وہ پھر رقیب کے گھر میں چلا گیا
اے
رشک میری جان گئی تیرا کیا گیا
یہ
ضعف ہے تو دم سے بھی کب تک چلا گیا
خود
رفتگی کے صدمے سے مجھ کو غش آ گیا
کیا
پوچھتا ہے تلخی الفت میں پند کو
ایسی
تو لذتیں ہیں کہ تو جان کھا گیا
کچھ
آنکھ بند ہوتے ہی آنکھیں سی کھل گئیں
جی
اک بلائے جان تھا اچھا ہوا گیا
آنکھیں
جو ڈھونڈتی تھیں نگہ ہائے التفات
گم
ہونا دل کا وہ مری نظروں سے پا گیا
بوئے
سمن سے شاد تھے اغیار بے تمیز
اس
گل کو اعتبار نسیم و صبا گیا
آہ
سحر ہماری فلک سے پھری نہ ہو
کیسی
ہوا چلی یہ کہ جی سنسنا گیا
آتی
نہیں بلائے شب غم نگاہ میں
کس
مہروش کا جلوہ نظر میں سما گیا
اے
جذب دل نہ تھم کہ نہ ٹھہرا وہ شعلہ رو
آیا
تو گرم گرم ولیکن جلا گیا
مجھ
خانماں خراب کا لکھا کہ جان کر
وہ
نامہ غیر کا مرے گھر میں گرا گیا
مہندی
ملے گا پانوں سے دشمن تو آن کر
کیوں
میرے تفتہ سینے کو ٹھوکر لگا گیا
بوسہ
صنم کی آنکھ کا لیتے ہی جان دی
مومنؔ
کو یاد کیا حجر الاسود آ گیا
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
Posted by Wasimdarbar in: اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا at 08:34
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
بے وفا کہنے کی شکایت ہے
تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا
ذکر اغیار سے ہوا معلوم
حرف ناصح برا نہیں ہوتا
کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک
جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
اس نے کیا جانے کیا کیا لے کر
دل کسی کام کا نہیں ہوتا
امتحاں کیجئے مرا جب تک
شوق زور آزما نہیں ہوتا
ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہے
تجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا
آہ طول امل ہے روز فزوں
گرچہ اک مدعا نہیں ہوتا
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
حال دل یار کو لکھوں کیوں کر
ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا
رحم بر خصم جان
غیر نہ ہو
سب کا دل ایک
سا نہیں ہوتا
دامن اس کا جو ہے دراز تو ہو
دست عاشق رسا
نہیں ہوتا
چارہ دل سوائے
صبر نہیں
سو تمہارے سوا
نہیں ہوتا
کیوں سنے عرض مضطر اے مومنؔ
صنم آخر خدا نہیں ہوتا

